سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چینی دانش کا اہم کردار ہو گا، نائب وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی

0

چین کی سنٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں اگلے سال  کے لیے آٹھ کاموں کو اولین ترجیح دی گئی ہے ، جن میں “قومی اسٹریٹیجک سائنسی اور تکنیکی طاقت کو مضبوط بنانا ” نمبر ایک پر  ہوتا ہے ۔کچھ دن  قبل  چین کی سالانہ اقتصادی  کانفرنس برائے 2020-2021  میں چین کے نائب وزیرسائنس و ٹیکنالوجی  لی مینگ نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قومی ترقی کے لیے تکنیکی جدت کی بڑی اہمیت ہے۔  چین کی ترقی کے موجودہ اندرونی اور بیرونی ماحول میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ، خاص طور پر معاشی ، سائنسی وتکنیکی عالمگیریت کے میدان میں متضاد رجحان کا سامنا ہے۔ تکنیکی جدت طرازی بڑی طاقتوں کے مابین مسابقت کا ایک میدان بن چکی ہے  اور تکنیکی ترقی پر غلبہ حاصل کرنا  قومی ترقی کا سب سے نمایاں عنصر بن چکا ہے ۔اس لیے ہمیں ایک طرف سائنسی ترقی کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے اور بنیادی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ،  دوسری طرف  ہمیں بڑے سائنسی اور تکنیکی معاملات کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ ان میں موجود مسائل کو حل کیا جا سکے ۔ جدت طرازی کے حوالے سے بڑے ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہیے  ، “دی بیلٹ اینڈ روڈ سائنس و ٹیکنالوجی ایکشن پلان”  کے نفاذ کو مضبوط بنانا چاہیئے، چین کے زیرقیادت  بڑے،بین الاقوامی سائنسی پروگرامز اور منصوبوں  پر عمل درآمد کو تیز کرنا چاہیئے، مشترکہ طور پر تحقیق کرنے کے لیے تمام ممالک کے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرنی  چاہیے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں چینی دانش کا اہم کردار ہوگا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY