چین کی اقتصادی منصوبہ بندی کا عالمی معیشت کی بحالی میں اہم کردار

0

حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والی چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی اقتصادی ورک کانفرنس میں اہم معاشی  فیصلے کیے گئے ہیں۔ آئندہ برس چین کی میکرو اکنامک پالیسی” استحکام” پر زیادہ توجہ مرکوز کرے گی جس سے اقتصادی بحالی میں حمایت میسر آئے گی۔یہ اقدام واضح کرتے ہیں کہ سال 2021میں چین کی معاشی پالیسی سازی طویل المیعاد استحکام اور متوازن ترقی کے حصول پر مبنی ہے۔ چینی معیشت کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر بحالی کا رجحان تو  عیاں ہے مگرابھی بھی ایسے شعبہ جات اور صنعتیں موجود ہیں جو بحال نہیں ہو سکے ہیں اور آئندہ برس کی معاشی صورتحال وبا کے باعث بدستور پیچیدہ ہے۔ چین کی جانب سے میکرو اکنامک پالیسیوں کے تسلسل  اوراستحکام نے بلاشبہ نئے سال میں چینی معیشت کی پائیدار اور مستحکم بحالی کے لیے اعتماد فراہم کیا ہے۔چین دنیا کے لیے ایک “عالمی فیکٹری” کی حیثیت رکھتا ہے  اور چینی معیشت کی بحالی وبا سے متاثرہ عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ گلوبل سپلائی چین کے اہم جزو کے طور پر چینی کارخانوں میں مشینیں دنیا بھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ایسے میں چند مغربی سیاستدانوں کی جانب سے چین سے معاشی طور پر علیحدگی کی باتوں میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ہے۔برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے سینئر مبصر مارٹن وولف نے ابھی حال میں کہا کہ چین دنیا میں پیداوار کے لحاظ سے نمایاں ترین مقام پر ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیےاتنا آسان نہیں کہ وہ اپنا کاروبار کسی دوسرے ملک منتقل کر سکیں۔ یہ بات اہم ہے کہ چین کی جانب سے  مرکزی اقتصادی ورک کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اصلاحات اور کھلے پن کو جامع طور پر فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔چینی منڈی کا اعلیٰ درجے کا کھلا پن عالمی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع سامنے لائے گا جس سے عالمی معیشت کی بحالی میں نمایاں مدد ملے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY