شی جن پھنگ کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے چین کے نئے اقدامات کا اعلان

0

بارہ دسمبر کو چینی صدرشی جن پھنگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کلائمیٹ ایمبیشن سمٹ میں شرکت کی ۔ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ  نے کہا کہ   پچھلے پانچ سالوں میں ، پیرس معاہدے پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہوا ہے  اور اسے عالمی برادری کی طرف سے بھرپور حمایت اور تعاون حاصل ہوا ہے ۔اس وقت ، بین الاقوامی صورتحال میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ، کووڈ-۱۹ کی وبانے انسان اور فطرت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سوچ کو جگایا ہے اور عالمی موسمیاتی انتظام و انصرام پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  چین نے موسمیاتی تبدیلیوں  کے حوالے سے پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہےاور اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بے حد سرگرمی سے عمل درآمد کیا ہے۔

چینی صدر نے تین نکات تجویز کیے۔ اول،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو متحد ہو۔چین، پیرس معاہدے میں  زیادہ سے زیادہ ممالک کی شرکت ،شراکت اور خدمات کا خیرمقدم کرتاہے۔دوم ، موسمیاتی  انتظام و انصرام  کا نیا نظام تشکیل دیا جائے ۔ تمام ممالک کو اپنی صلاحیت کے مطابق متعلقہ اقدامات اختیار کرنے چاہئیں اور ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈز ، ٹیکنالوجی اور صلاحیت بڑحانے میں مدد کرنی چاہیے۔سوم ، ماحول دوست طرز زندگی کو عام کیا جائے  اور ماحول دوست ترقی کا نیا نمونہ تشکیل دیا جائے۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ  2030 تک ، جی ڈی پی کے فی یونٹ کے لیے چین کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 2005 کے مقابلے میں65 فیصد  کم کرے گا ۔ non fossil توانائی ، بنیادی توانائی کی کھپت کا تقریبا 25 فیصد بنے گی ،  جنگلات کےذخائر میں2005 کے مقابلے میں 6 ارب مکعب میٹر زکا اضافہ ہوگا ، اور ہوا کی طاقت سے حاصل کردہ توانائی اور شمسی توانائی کی کل صلاحیت 1.2 ارب کلو واٹ سے زیادہ ہوگی۔

خطاب کے اختتام پر شی جن پھنگ نے کہاکہ کراہ ارض بنی نوع انسان کا مشترکہ اور واحد گھرہے۔ آئیے پیرس معاہدے کو عمل میں لائیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے ایک نئے سفر کا آغاز کریں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY