چین امریکہ تعاون موسمیاتی تبدیلیوں پر عالمی ردعمل کی راہنمائی کرسکتا ہے، انتونیو گوئتریز

0

حال ہی میں  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریز  نے سی جی ٹی این کے نامہ نگار کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی رد عمل میں چین کے نمایاں کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے  مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے چین اور امریکہ کے مشترکہ طور پر کام کرنے کے  امکانات سے متعلق بات چیت کی ۔ انٹرویو میں انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ پیرس معاہدے میں متعدد ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عہد کیے لیکن گنتی کے چند ممالک نے واقعتاً ان کا احترام کیا ہے اور ان  وعدوں کو پورا کیا ہے۔

پیرس معاہدے میں دو ہزار پچاس تک عالمی سطح پر کاربن میں کمی کا ہدف طے کیا گیا تھا ۔ انتونیو گوئتریز  نے اس بات پر زور دیا کہ چین نے موسمیاتی  تبدیلیوں کے عالمی رد عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وہ پیرس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی  کہ چین بین الاقوامی تعاون میں رہنما کردار ادا کرسکتا ہے اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو  کے تحت ترقی پذیر ممالک کو  موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے  کی کوششوں میں شمولیت کے لیےراغب کرسکتا ہے۔

رواں سال 4 نومبر کو امریکہ باضابطہ طور پر “پیرس معاہدہ” سے دستبردار ہوگیا تھا ۔ تاہم نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے “پیرس معاہدے” میں واپس آنے کا عندیہ دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ  اگلے سال فروری کے شروع میں ہی امریکہ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجائے گا۔

انتونیو گوئتریز  نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین اور امریکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور “کرہ ارض  کو بچانے” کے لیے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پیرس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY