چین۔پاک مضبوط شراکت داری خطے کے امن کی ضامن، سی آر آئی اردو کا تبصرہ

0

چین پوری دنیا کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت سلامتی کے تعلقات چاہتاہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں امن و خوشحالی کو فروغ دیاہے،انتہائی غربت کا مکمل خاتمہ کیاہے بلکہ تعاون کے عالمگیر منصوبوں کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک اورخطوں کی  ترقی اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کا خواہاں ہے۔ چین اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ  باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر باہمی مفادات پر مبنی مضبوط تعلقات چاہتاہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ان ممالک کے ساتھ رہنماوں کے دوروں کا تبادلہ  اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہتاہے ۔جس سے ان ممالک کے ساتھ گزرتے وقت کے ساتھ اعتماد اور تعاون میں اضافہ ہورہاہے  ۔

پاکستان چین کا آہنی پڑوسی دوست ملک ہے۔ دونوں ممالک کی دوستی کی مثال پوری دنیا میں دی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان انتہائی  گہرے، ہمہ گیر اور جامع تعلقات ہیں۔ دونوں مملک کی سدابہار دوستی کوآگے بڑھانے اور شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے گزشتہ دنوں چین کے وزیر دفاع وی فونگ حہ نے پاکستان کا دورہ کیا ۔     

چین کی وزارت قومی دفاع کے مطابق ، ریاستی کونسلر اور وزیر دفاع جنرل وی فونگ حہ  اپنے دورے کے دوران صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سمیت اعلی پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وی نے کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین سدا بہار  اسٹریٹیجک شراکت داری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے ، دونوں ممالک کے رہنماوں کی قیادت  میں ، دونوں فریقوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے اورایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور میں باہمی  حمایت کی ہے۔

وی نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک مواصلات ، باہمی تعاون اور باہمی اعتماد کو بڑھانے کے لئے تیار ہے ، دونوں فوجیں مشترکہ طور پر مختلف خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کریں گی ، خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ کریں گی  اور خطے میں امن و استحکام کا تحفظ کریں گی۔

پاکستان کے صدرعارف محمد علوی نے کہا کہ چین پاکستان دوستی کی تاریخ بہت پرانی ہے اور دونوں ممالک اچھے دوست اور شراکت دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین بحیرہ جنوبی  چین ، تائیوان ، سنکیانگ اور تبت سے متعلق امور پر چین کے موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔ ، اور دفاعی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کو آگے بڑھانے کی امید کرتا ہے۔

چین کے وزیر  دفاع نے کہا کہ چین کی جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو بڑھانے کی کوششیں کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا مقصد خطے کو اپنے جغرافیائی سیاسی پچھواڑے میں تبدیل کرنا ہے ،بلکہ اس کا مقصد ایک پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیاء کو فروغ دینا ہے۔

وبائی صورتحال کے دوران چین کے وزیر دفاع کے دورہ نیپال اور پاکستان نے چین کے پڑوسی ممالک کے ساتھ مواصلات اور تعاون کے ذریعہ صحت مند تعلقات کو برقرار رکھنے اور جنوبی ایشیاء میں علاقائی امن و استحکام کے مشترکہ تحفظ کے مشترکہ تحفظ کے عزم کو ظاہر کیاہے۔

دنیا کا روشن مستقبل امن اور ترقی  سے وابستہ ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین ان دونوں اقدار کا مضبوط علمبردار ہے  اور عملی اقدامات کے ذریعے دنیا کو خوشحال اور پرامن بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔ پاکستان اور چین کی مضبوط شراکت داری نے پورے خطے میں امن اور خوشحالی کے امکانات روشن کیے ہیں ۔اور چینی وزیر دفاع کادورہ پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY