آسٹریلوی وزیر اعظم کے بیان پر چینی وزارت خارجہ کا ردعمل

0

تیس  نومبر کو چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی۔اس دوران ایک رپورٹر نے پوچھا کہ اطلاعات کے مطابق ، آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن   نے چین کی  وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے ایک ٹویٹ پر معذرت کرنے کو کہا  ہےاور ٹویٹر کومتعلقہ مواد حذف کرنے کو کہا ہے۔اس کے حوالے سےہوا چھون اینگ نے کہا کہ کچھ آسٹریلوی فوجیوں نے افغانستان میں سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کی اطلاع آسٹریلوی میڈیا نے خوددی ہے اور آسٹریلیا کی وزارت دفاع کی تحقیقاتی رپورٹ سے اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ آسٹریلوی دفاعی فورس کے کمانڈر کیمبل نے اس رپورٹ کے مندرجات کو متعارف کروانے کے لئے ایک خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ رپورٹ میں انکشاف کردہ تفصیلات حیران کن  ہیں۔ ان میں بالغ مردوں اور لڑکوں کو ایک ساتھ گولی مارنا ، یا آنکھوں پر پٹی باندھ کر  ان کے گلے کاٹنا شامل ہیں ، دو چودہ سالہ لڑکوں  کے گلے کاٹ کر دریا  میں پھینکا گیا ہے  ، اور نئے فوجی مشق کرنے کے لئے  جنگی قیدیوں کو گولی  مارتے ہیں۔” آسٹریلیا کے ان وحشیانہ جرائم کی عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے۔

ہوا چھون اینگ نے نشاندہی کی کہ  آسٹریلوی وزیر اعظم کا  میرے ساتھی کی ذاتی ٹویٹس پر اتنا سخت ردعمل ظاہر کرتاہے کہ انکے خیال میں  آسٹریلوی فوجیوں کاافغانستان میں بے گناہ شہریوں کو مارنا جائز ہے ، لیکن کوئی  اس  کی مذمت کرے توغیر معقول ہے؟ افغان عوام کی زندگی بھی زندگی ہے۔ آسٹریلوی حکومت کو چاہیےکہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں ، افغان عوام سے سرکاری طور پر معافی مانگیں ، اور عالمی برادری سے  وعدہ کریں کہ اس خوفناک جرم کا ارتکاب پھر کبھی نہیں ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY