علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ علاقائی ممالک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا ، اقوام متحدہ کے ماہر

0

حال ہی میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری  معاہدے  (آر سی ای پی)پر با ضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی نے اس حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی ممالک سمیت دیگر معیشتوں میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔ 
  رپورٹ کے مطابق آر سی ای پی میں شامل ممالک  براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔ 2019میں  آر سی ای پی رکن ممالک کا عالمی سطح پر مجموعی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں تناسب ایک چوتھائی رہا ہے۔ 
اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کی کانفرنس  کے تحت سرمایہ کاری اور کاروباری امور کے بیورو کے ڈائریکٹر  جیان شاؤ نینگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں شامل ممالک نے مینوفیکچرنگ ، زراعت ، جنگلات ، ماہی گیری ، اور کان کنی سمیت پانچ غیر خدماتی شعبوں میں اعلی سطح کے کھلے پن کو برقرار رکھنے اور سرمایہ کاری کے لئے  منفی فہرست کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ  مذکورہ معاہدے میں مصنوعات اور خدمات کی تجارت ، دانشورانہ املاک کے حقوق  اور ای کامرس  سے متعلق  تمام ضوابط ،  تجارتی سہولیات کو فروغ دیں گے، کاروباری لین دین کے اخراجات کو کم کریں گے اور  خطے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور صنعتی ترقی کو  آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ  آر سی ای پی کے رکن ممالک میں ترقی یافتہ اور ترقی پزیر دونوں ممالک شامل ہیں لہذا یہ معاہدہ متعلقہ فریقوں کے مفادات  کے عین مطابق ہے۔ بالخصوص  اس معاہدے کے تحت میانمار ، لاؤس اور کمبوڈیا  جیسے کم ترقی یافتہ ممالک کو ترجیح دی جائے گی۔  ان ممالک کی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے لئے  معاہدے میں  ایس ایم ایز اور معاشی و تکنیکی تعاون کے دو ابواب ترتیب دیئے گئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY