چین کا نیا ترقیاتی نمونہ دنیا کے لئے کیا ثمرات لائے گا؟

0

چین کے اعلیٰ رہنما شی جن پھنگ نے 19 تاریخ کو ایپیک بزنس قائدین کے مکالمے میں ویڈیو لنک کے ذریعے اہم خطاب  کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین میں  نئے ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر ایک کھلی اور باہمی تقویت کی حامل اندرونی و بین الاقوامی دوہری گردش پر مبنی ہے۔  انہوں نے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح چین کا نیا ترقیاتی نمونہ مارکیٹ ، کھلے پن اور تعاون کے تناظر سے دنیا کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور کس طرح دنیا کے لئے چین کی ترقی کی تفہیم کو آسان بناتا ہے۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ ایک نئے ترقیاتی نمونے کی تعمیر ،ایک اسٹریٹجک انتخاب ہے جو چین کے اپنے ترقیاتی مراحل اور ترقیاتی حالات پر مبنی ہے ، اور معاشی عالمگیریت اور بیرونی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو پوری طرح سے مدنظر رکھتا ہے۔چین کی مارکیٹ کی صلاحیت کو پوری طرح سے متحرک کیا جائے گا، تاکہ دنیا بھر کے ممالک میں اس کی  مانگ پیدا ہو۔ چین دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹنے کے لئے اپنا دروازہ کھولے گا۔  یہ تینوں شعبے جو دنیا کو فائدہ پہنچاتے ہیں ان میں ایک مشترکہ کلیدی لفظ ہے ، یعنی “شیئرنگ” ، جو عالمی معاشی بحالی اور دوسرے ممالک کے ساتھ مشترکہ ترقی کو فروغ دینے میں چین کے اخلاص کی عکاسی کرتا ہے۔

لوگوں نے دیکھا ہے کہ حال ہی میں دستخط شدہ “علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ” (آر سی ای پی) نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی علاقے کے قیام میں مدد فراہم کی ہے اور ایشیاء پیسیفک فری ٹریڈ ایریا (ایف ٹی اے اے پی) کے قیام کی راہ میں بھی ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایشیاء پیسیفک تعاون کے ایک مضبوط حامی کی حیثیت سے ، چین مختلف معیشتوں کے ساتھ مل کر ایشیاء پیسیفک فری ٹریڈ ایریا کو تصور سے حقیقت تک فروغ دینے ، اور عالمی معاشی نمو کی رفتار مزید تیز کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY