بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے برکس ممالک کو تعاو ن کو فروغ دینا ہوگا

0

دنیا کو کووڈ-۱۹ کےوبائی مرض سمیت  دیگر  سنگین بحرانوں   کا سامنا ہے ۔ برکس ممالک کے رہنماؤ ں نے گزشتہ روز ویڈیو  لنک کے ذریعے بارہویں سالانہ سربراہی اجلاس کا انعقاد  کیا ، جس میں کثیرالجہتی  کے تحفظ ، کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام و کنٹرول اور  عالمی معیشت کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کرنے  کے عزم کااظہار  کیا گیا ہے ۔ 

برازیل ، روس ،  بھارت ، چین اور جنوبی افریقہ سمیت پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں  کا ویڈیو اجلاس  ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب  نوول کورونا وائرس کی وبا کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مشکل ترین عالمی بحران قرار دیا گیا ہے ۔ عالمی سطح پر پھیلنے والی اس وبا  نے تاحال  55 ملین سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے اور اس کے باعث 13 لاکھ  افراد ہلاک ہوئے  ہیں جبکہ پوری دنیا میں متاثرہ کیسز   اب بھی تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ 

دوسری طرف عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا  ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پیش گوئی کے مطابق  عالمی معیشت رواں سال 4.4 فیصد سکڑ جائے گی ، اور ابھرتی ہوئی مارکیٹیں اور ترقی پزیر ممالک کی شرح نمو 60 سالوں میں پہلی بار منفی زون میں داخل ہو جائے گی ۔

اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ وبائی بیماری سے پہلے ہی ، تحفظ پسندی اور یکطرفہ  پسندی بھی   اپنا سر  اٹھا  رہی تھی ۔دوسری جانب  گورننس ،اعتماد ، ترقی اور امن کے سلسلے میں نقصانات مسلسل بڑھتے چلے گئے ہیں۔

ایسے نازک لمحے پر ، چینی صدر شی جن پھنگ  نے اپنے خطاب میں برکس ممالک سے کثیرالجہتی کو برقرار رکھنے اور عالمی چیلینجز پر مشترکہ طور پر قابو پانے کا مطالبہ کیا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنی تجاویز بھی پیش کیں ۔

اس وقت کووڈ ۔19 کی وبا کی ایک نئی لہر دنیا کے بہت سارے حصوں میں پھیل رہی ہے ۔ جیساکہ  شی جن پھنگ کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے مشترکہ طور پر یکجہتی اور ہم آہنگی کو آگےبڑھانے کی ضرورت ہے۔اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام وسائل کو متحرک کرنا ہو گا ۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی روابط  اور ردعمل کو  تیز کرتے ہوئے وبائی امراض پر قابو پانے کے بارے میں معلومات اور تجربے کا اشتراک   کرنا ور اس کوشش میں عالمی ادارہ صحت کے کلیدی قائدانہ کردار کی حمایت کرنا ہو گی۔  

لیکن بدقسمتی  کی بات یہ ہے کہ  دنیا میں  کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو  دوسروں کو بدنام کرنے اور قربانی کا بکرا بنانے کے لئے وبائی بیماری  کا  استعمال کرنے کی  کوشش کر رہے ہیں  ۔  جس کے نتیجے میں وبا کے خلاف جاری بین الاقوامی تعاون کو  نقصان پہنچا ہے  ۔ لہذا برکس ممالک کو  اختلافات کو دور کرتے ہوئے متحد ہو کر تعصب کو  عقلی سوچ  سے تبدیل کرنا اور ہر طرح کے سیاسی وائرس کو ختم کرنا چاہیئے ۔ 

دریں اثنا ، عالمی معاشی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف  ممالک کو معاشی پالیسیوں کی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے ، لوگوں اور سامان کے سرحد پار بہاؤ کو آسان بنانے  کی ضرورت ہے ۔  اور کاروباری بحالی کو بہتر بنانے کے لئے صنعتی  چین اور  سپلائی چین کو محفوظ اور کھلا رکھا جانا چاہیئے ۔ “تحفظ پسندی” کے بڑھتے ہوئے جذبات اور نام نہاد “معاشی ڈی کپلنگ” کے زوردار شور میں مختلف ممالک کو ایک کھلی عالمی معیشت کی تشکیل اور عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قیام کے لئے بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔

وبا کی روک تھام و کنٹرول اور معاشی بحالی کے لحاظ سے چین ایک ذمہ دار اور بڑے ملک کی حیثیت سے اپنے وعدوں کو عملی اقدامات کے ساتھ پورا کرتا رہا ہے ۔ کورونا وائرس کو شکست دینے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لئے چین  ہمیشہ دوسرے ممالک  کے ساتھ مل  سخت محنت کر رہا ہے۔ 

شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں ممالک کو ” ایک ہی کشتی میں سوار  مسافروں ” سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ “جب ہوا  تیز ہو اور  لہریں  اونچی  ہوں تو ہمیں اپنی سمت پر اور بھی زیادہ توجہ مرکوز رکھنا چاہئے۔”یہ سچ ہے کہ  اس تیزی سے بدلتے ہوئے اور چیلنجوں سے بھرے  دور میں ، صرف کثیرالجہتی پر قائم رہنے اور اپنی طاقتوں کو متحد کرنے سے ہی انسانیت ،مشکلات پر قابو پاسکتی ہے اور ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY