بحران کے وقت برکس ممالک کے تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سی آر آئی اردو کا تبصرہ

0
新华社照片,北京,2020年11月17日 习近平出席金砖国家领导人第十二次会晤并发表重要讲话 11月17日晚,金砖国家领导人第十二次会晤以视频方式举行。国家主席习近平在北京出席会晤并发表重要讲话。 新华社记者 李学仁 摄

برکس ممالک کے رہنماؤں کا بارہواں سربراہی  اجلاس 17 نومبر  کی شام کو ویڈیو  لنک کے ذریعہ منعقد  ہوا، صدارت  روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کی  جبکہ  چینی صدر شی جن پھنگ ، ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی ، جنوبی افریقی صدر رامافوسہ ، اور برازیل کے صدر بولسنارو نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اس وقت انسانی معاشرہ اس صدی کی بدترین وبائی بیماری کا سامنا کر رہا ہے ، اور عالمی معیشت 1930 کی دہائی میں دی گریٹ ڈیپریشن  کے بعد بدترین کساد بازاری کا شکار ہے۔وقت کے اس اہم موڑ پر  ، اس اجلاس کا انعقاد خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امن اور ترقی کا رجحان بدستور برقرار ہے گا اور  کثیرالجہتی  اور معاشی عالمگیریت کے رجحان کو الٹ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو عملی جامہ پہنانا چاہئے ، اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے عملی اقدامات  اختیار کرنے چاہئے۔ صدر شی جن پھنگ نے موجودہ چیلنجوں کا مقابلے کرنے کے حوالے سے پانچ تجاویز پیش کیں :

 کثیرالجہتی پر   قائم رہنا اور عالمی امن و استحکام  کو برقرار رکھنا،کووڈ-۱۹ کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے یکجہتی اور تعاون پر عمل پیرا رہنا،عالمی معاشی بحالی کو فروغ دینے کے لئے اشتراک  اور جدت  پر زور  دینا؛ عوام  کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینا ، سبز اور کم کاربن ترقیاتی طریقہ کار کو اپنانا اور  پائیدار ترقی کو فروغ دینا۔

برکس ممالک دنیا میں ابھرنے والی معیشتوں اور قوتوں کے نمائندے ہیں۔اس وقت دنیا میں کووڈ-۱۹ کی وبا  جاری ہے اور  یکطرفہ پسندی  اور  تحفظ پسندی عروج پر ہیں جس کی وجہ سے تمام ملکوں کو سخت چیلجوں کا سامنا ہے۔ایسے میں ان چیلنجوں کا مقابلے کرنے کے لئے برکس ممالک کے تصورات ،  پالیسیاں اور اقدامات عالمی اہمیت کے حامل ہے ۔

جیسا کہ” برکس  ممالک” کے تصور کے خالق ، برطانیہ کے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چیئرمین ، جم او نیل نے کہا  ہے کہ صدر شی  جن پھنگ کی یہ تجویز بہت اہم ہے کہ برکس ممالک کو بین الاقوامی سطح پر عدل و انصاف کا علمبردار ہونا چاہئے اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں کثیرالجہتی کی پوری حفاظت کرنی چاہیے۔موجودہ عالمی صورتحال میں ، ممالک کو باہمی تعاون کو مضبوط بنانے ، ویکسین ریسرچ اور علاج  کی پیشرفت کو تیز کرنے اور وبا کو قابو کرنے کی بنیاد پر معاشی بحالی کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ 

معاشی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، صدر شی جن پھںگ نے کہا کہ چین ،شا من شہر میں برکس ممالک  کے لئے  نیا صنعتی جدت طرازی کا مرکز  قائم کرے گا ، تاکہ پالیسی کوآرڈینیشن ، ٹیلنٹ ٹریننگ ، اور پروجیکٹ ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، صدر شی نے اعلان کیا کہ چین اس سلسلے میں مزید طاقتور پالیسیاں اور اقدامات اپنائے گا ، 2030 تک چین   کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج  کے عروج پر پہنچنے کے بعد  2060 تک کاربن نیوٹرل کے حصول کے لئے کوشاں رہے گا۔ صدر شی  نے واضح طور پر کہا کہ ہم جو کہیں گے اس پر عمل کریں گے۔یہ دنیا کے سامنے چین کا سنجیدہ وعدہ ہے ،  اور  غیر معمولی تبدیلیوں اور بحرانوں کے سامنے  ذمہ داری اٹھانے ، کثیر الجہتی تعاون کی فعال طور پر حمایت کرنے اور عالمی معاشی بحالی اور مربوط ترقی کے لئے جدوجہد کرنے کے چین کے  عزم کا   ثبوت ہے۔ اس غیر معمولی گھڑی میں  ، برکس تعاون ، دیگر کثیر جہتی تعاون کےپلاٹ فارمز کی طرح ، کثیرالجہتی کا دفاع کرےگا ، مشترکہ پیشرفت کو آگے بڑھائے گا اور دنیا کے جہاز کو ایک بہتر کل تک پہنچانے کے لئے جدوجہد  کرتا رہیگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY