چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نے “ڈیکپلنگ” کے نظریہ کو ایک لطیفہ ثابت کردیاہے۔ سی آر آئی کا تبصرہ

0

تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو  دس تاریخ کو اختتام کو پہنچی ۔موجودہ ایکسپو میں طے کیے گئے تجارتی و کاروباری معاہدوں کی کل مالیت 72.62 بلین امریکی ڈالرز  تک جا پہنچی، جس میں پچھلے سال کے مقابلے میں 2.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ حقائق نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ سی آئی آئی ای ، جو بین الاقوامی خریداری ، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلے ، اور کھلے تعاون  کا پلیٹ فارم  ہے ، دنیا  کا  مشترکہ  بین الاقوامی عوامی ایونٹ بن گیا ہے ۔ ایکسپو وبا کے تحت مختلف ممالک میں کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور ترقی کی امید بن کے ابھری ہے۔

چین کی سرکاری اطلاع کے مطابق ، اس سال ایکسپو میں دنیا کی ٹاپ500 اور مختلف  صنعتوں  کی چوٹی کی کمپنیوں میں سے 80 فیصد نے حصہ لیا۔ امریکی نمائش کنندگان کی تعداد تیسرے نمبر پر رہی ، اور ان کی  نمائش کی جانے والی مصنوعات  کی تعداد سب سے زیادہ رہی ۔ اس نے ثابت کردیاہے کہ بعض امریکی  سیاستدانوں  کی طرف سے چین سے  نام نہاد “ڈیکپلنگ” کا نظریہ ایک لطیفے کے سوا کچھ نہیں ۔ کوچ ٹریڈنگ (شنگھائی) کمپنی ، لمیٹڈ کے انچارج  کے مطابق ، کمپنی کو اس سال ایکسپومیں 310 ملین امریکی ڈالرکے آرڈر ملے ہیں جو پچھلے سال سے زیادہ ہیں۔ جیسا کہ کچھ غیر ملکی میڈیا نے نشاندہی کی ہے ، “ایک اہم صارف مارکیٹ اور سپلائی چین کےمرکز کے طور پر، چین کی پوزیشن مستحکم ہے۔”

چین اپنی اصلاحات اور  کھلے پن کے عمل کو مسلسل فروغ دے رہا ہے اور  کھلی دنیا کی معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔یہ  بین الاقوامی برادری کے ساتھ چین  کے خلوص اور ذمہ داری کا مظہر  ہے۔ اگرچہ یکطرفہ پسندی ، تحفظ پسندی عالمی معیشت پر اثرانداز ہو رہی  ہے ، لیکن چین  اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ممالک کے مابین شراکت داری اور تعاون کے عمومی رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اس سی آئی آئی ای کے دوران چین نے چین کی منڈی کو عالمی منڈی میں بدلنے کے مقصد کے لئےچار نئے اقدامات کا اعلان کیا۔لہذا ، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ سینکڑوں کمپنیوں نے چوتھی سی آئی آئی ای میں شرکت کے لئے کیوں معاہدے کیے ہیں۔ صرف یہاں تک نہیں ہے، سو سے زیادہ کمپنیاں  اگلی تین نمائشوں کے لئے اپنے بوتھ بک کروا چکی ہیں۔ چین ، جو جامع سوشلسٹ جدت کے نئے سفر پر گامزن ہے ، سی آئی آئی ای کے ذریعے دنیا کے لئے زیادہ مواقع پیدا کرےگا  ، اور نام نہاد “ڈیکپلنگ”کے  نظریہ کو ایک لطیفہ ثابت کرےگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY