کیا امریکی سیاستدان بھی امریکی شہریوں کی طرح وبا کی روک تھام اور اس کو شکست دینے پر غور کریں گے ؟

0

امریکہ میں کووڈ-۱۹  کے تصدیق شدہ کیسز  کی تعداد اب تک 8.8ملین سے زیادہ ہو گئی  ہیں جب کہ  ہلاکتوں کی تعداد 220000سے تجاوز کرگئی ہے ۔گزشتہ ہفتے ہی ، مسلسل دو دن تک ،امریکہ میں ایک ہی دن میں 80000سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے۔ چند دن قبل ہی ، معروف امریکی ہدایت کار الیکس  گبنی  اور دیگر افراد  کی معاونت سے انسداد وبا سے متعلق دستاویزی فلم “فلی کنٹرول ایبل ” جاری ہوئی ہے، جس میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے  امریکی حکومت کی افراتفری اور یکے بعد دیگرے کی جانی والی غلطیوں کو ایک ایک کر کے سامنے لایا گیا ہے۔فلم میں  رضاکاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے انٹرویوز بھی شامل ہیں اور انہوں نےاس بات کی نشاندہی کی کہ تکنیکی غلطیوں کے مقابلے میں ، موجودہ امریکی حکمرانوں کی جانب سے  صورتحال کے جواب میں درست اور بروقت ردِ عمل نہ دینا ہی وبا کی موجودہ بے قابو صورتِ حال کی اصل اور بنیادی وجہ ہے ۔

حال ہی میں نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو  کی نئی کتاب “امریکن کرائسس” شائع ہوئی ہے جس میں  انہوں نے مقامی انتظامیہ کے نقطہ نظر سے ریاست نیو یارک میں وبا کے پھیلاؤ کاذکر کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکی وفاقی حکومت  نیویارک میں وبا کی موجودہ صورتِ حال کی ذمہ دار  ہے اور وہ اس سے پہلو تہی نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے اس تمام صورتِ حال کی ذمہ داری چین اور ڈبلیو ایچ او  کے سر ڈالنے کے روئیے پر بھی  امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کوئی “چینی وائرس” نہیں ہے۔ انہوں نے چین کی کارکردگی اور وبا کے مقابلے میں حاصل کردہ کامیابیوں کے حوالے سے مثبت تبصرہ کرتے ہوئے بحران کے وقت امریکہ کو وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے بڑی تعداد میں انسدادِ وبا کا سامان عطیہ کرنے پر چین کا شکریہ بھی  ادا کیا۔

امریکہ کےقومی ادارہ صحت کے  سابقہ عہدیدار برائٹ نے خبردار کیا کہ امریکہ جدید تاریخ کے ” سیاہ ترین موسم سرما “میں داخل ہورہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY