شمالی کوریا میں امریکی جارحیت کے خلاف جنگ میں چینی رضا کار فوج کی شرکت کی سترویں سالگرہ کی یادگاری تقریب

0

تیئیس تاریخ کو چینی رضاکار فوج کی شمالی کوریا کی امداد کے لیے امریکی جارحیت کے خلاف جنگ میں شرکت کی سترویں سالگرہ کی یاد گاری تقریب بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ، چین کے صدر مملکت اور چینی کمیونسٹ پارٹی کےمرکزی فوجی کمیشن کے چیرمین شی جن پھنگ نے تقریب میں شرکت اور خطاب کیا۔

جون 1950 میں کوریا کی اندرونی جنگ شروع ہونے کے بعد ، امریکی حکومت نے مداخلت کے لئےاپنی فوج خطے میں بھیج دی اور شمالی کوریا کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ کا آغاز کردیا۔چینی حکومت کی بار بار انتباہ کے باوجود امریکی فوجی چین اور شمالی کوریا کے درمیان واقع سرحد تک پہنچ گئی ، یہاں تک کہ چین کی شمال مشرقی سرحد پر واقع شہروں اور دیہی علاقوں پر بمباری کے لئے طیارے روانہ کردیئے۔ شمالی کوریا کی درخواست پر ، چین نے اکتوبر 1950 میں چینی عوامی رضاکارفوج کو شمالی کوریا میں لڑنے کے لئے منظم کیا اور کوریا کی امداد کے لیے امریکی جارحیت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

شمالی کوریا کی امداد کے لیے امریکی جارحیت کے خلاف جنگ ، جو 2 سال 9 ماہ تک جاری رہی ، نے عالمی جنگوں کی تاریخ میں ایک مثال قائم کی کہ کمزوروں نے طاقتوروں کو شکست دی ، امریکی جارحیت کے خلاف مزاحمت میں کوریائی عوام کی حمایت کی ۔عوامی جمہوریہ کوریا اور ایک سال پہلے قائم ہونے والے عوامی جمہوریہ چین نے امریکی جارحیت سے بھرپور دفاع کیا اور عالمی امن کے لئے اہم خدمات سر انجام دیں۔

چینی اعلیٰ رہنما شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی،ریاستی کونسل اورمرکزی فوجی کمیشن کی جانب سے اس وقت حیات چینی رضا فوجیوں کی خیریت دریافت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے امن کے حامی تمام ممالک اور عوام،دوستانہ تنظیموں اور شخصیات کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ شمالی کوریا کی حمایت کی جنگ کی فتح چینی قوم کی عظیم نشاط الثانیہ کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواہ ایک ملک یا فوج کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو،اگر وہ بالادستی یا ،جارحیت کا مظاہرہ کرے گی تو شکست سے دوچار ہوگی۔

شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ جو پیچھے رہ جاتے ہیں وہ کچلے جاتے ہیں،صرف ترقی کے ذریعے خود کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ چین کو اپنی معاشی اور معاشرتی ترقی کو آگے بڑھانا چاہئے اور اپنی مجموعی قومی طاقت کو مضبوط بنانا چاہیے۔ جس سے زیادہ اعلیٰ معیاری ، زیادہ موثر ، زیادہ منصفانہ ، پائیدار اور محفوظ تر ترقی کا حصول ہوگا۔ اور دنیا کو حیران کرنے والے زیادہ سے زیادہ معجزات رقم کئے جا سکیں گے۔

شی جن پھنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چاہے زمانہ کیسے ہی ترقی کیوں نہ کررہا ہو ، ہمیں تشدد کو روکنے اور طاقت کے خلاف مزاحمت کے قومی جذبے کو تقویت دینا ہوگی ، ہم خیال قومی طاقت کو یکجا کرنا ہوگا ، قومی روح کو قائم کرنا ہوگا، اور سالمیت اور جدت طرازی کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھنے کی قومی حکمت عملی کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ چین پرامن ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے مختلف ممالک کے عوام کے ساتھ مل کر کوشش کرتا رہے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ چین امن ،ترقی ،انصاف،مساوات،جمہوریت اور آزادی پر مبنی انسان کی مشترکہ اخلاقیت پر ثابت قدم رہے گا،جامع مشاورت،تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور پر ثابت قدم رہے گا ،امن ،کھلے پن،تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین کبھی تسلط یا توسیع کا متمنی نہیں ہوگا۔ چین بالادستی یا اقتدار کی سیاست کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔چین ہمیشہ دفاعی نوعیت کی پالیسی پر ثابت قدم رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ چین کے قومی اقتدار اعلیٰ،سلامتی،ترقیاتی مفادات یا انتشار سمیت کسی بھی جارحانہ کوشش کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY