چوتھی سہ ماہی میں کھپت کے رجحانات مزید بہتر ہوں گے، ترجمان قومی محکمہ برائے اعداد و شمار

0

چین کے قومی محکمہ برائے اعداد و شمار کی جانب سے ۱۹ تاریخ کو جاری کردہ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی تین سہ ماہیوں کے دوران اہم اقتصادی اشاریوں میں مثبت انداز میں بہتری آئی ہے۔ قومی محکمہ برائے اعداد وشمار کے ترجمان اور قومی معیشت کے اعداد وشمار کے محکمے کی ڈائریکٹر لیو آئی حوا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران عالمی معیشت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج وبا پر کنٹرول کا ہے۔ چونکہ چین کا وبا کی روک تھام اور کنٹرول کا تجربہ دن بدن زیادہ مضبوط ہوتا جارہا ہے ، لہذا ان حقائق کی روشنی میں چوتھی سہ ماہی میں کھپت کا رجحان گزشتہ تین سہ ماہیوں سے زیادہ مضبوط ہوگا۔

چائنا انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج سنٹر کی چیف ماہر اقتصادیات ، چن وین لینگ کا خیال ہے کہ بیرونی چیلنج اب بھی بہت سخت ہیں۔ لیکن بہت ساری کوششوں کے بعد ، چین نے ترقی کی ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے ، چین  ایک بہت بڑی منڈی ہے ، یہاں ایک مکمل مینوفیکچرنگ سسٹم موجود ہے ، جو چین کو ایک شاندار عالمی تجارتی مرکز بناتا ہے۔ یہ ایسی خصوصیات ہیں جنہیں سرد جنگ کی ذہنیت کے حامل چند ممالک تبدیل نہیں کر سکتے۔

چین نے پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران وبا کے مقابلے میں اپنی کارگردگی سے بہترین جواب پیش کیا ہے۔

چین کے قومی محکمہ اعدادوشمار کی جانب سے جاری کردہ ، رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کے معاشی اعدادوشمار متعدد ممالک کے ماہرین اورذرائع ابلاغ کے لیے قابلِ توجہ رہے ۔انہوں نے اس بات پر  اتفاق کیا کہ چین کے معاشی اعدادوشمار میں نمایاں بہتری آرہی ہے اور چینی معیشت کی تیز تر بحالی عالمی معیشت کی بحالی کو آگے بڑھائے گی۔

امریکی اخبار  نیویارک ٹائمز کے مطابق دنیا کے بیشتر علاقے کووڈ-۱۹ کی وبا کے زیر اثر ہیں۔چین نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ  وبا پر قابو پا لیا جائے تو معیشت تیزی سے بحال ہوسکتی ہے۔رواں سال چین پہلا ملک ہے ، جس کے معاشی اعدادوشمار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

 لندن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹیجی کے تجزیہ کار ڈیوڈ رامیرز نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے ساتھ ساتھ چین عالمی برآمدات کو وسعت دے گا جو کہ عالمی معیشت کی بحالی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔چین عالمی سپلائی چین میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY