ماضی کے تجربات ، انسان کے ہم نصیب معاشرے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ،چینی دانشور

0

چائنا میڈیا گروپ کی تجویز  پر   صحت کی سلک روڈ کے حوالے سے تھنک ٹینک انیشیئٹو    سے وابستہ چینی دانشور وانگ ون نے اپنے تحقیقی مضمون میں لکھا کہ  انسانی تاریخ کا جائزہ لیں ہم  وائرس یا بیکٹیریا سے پھیلنے والی مختلف وباووں کے طویل دور دیکھتے ہیں، ملیریا ، طاعون ، انفلوئنزا  بلیک ڈیتھ اور سپینش فلو کے نام سے پھیلنے والی تباہ کن وباووّں کے ساتھ ساتھ  خود انسان کی اپنی چھیڑی ہوئی جنگوں نے بھی اس زمیں پر نا صرف ماحول کو بلکہ انسانی زندگی  کی سلامتی ، معیشت اور تمدن کو ہلا  کر رکھ دیا۔ تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ وائرس جو انسان سے بھی پہلے سے اس دنیا میں موجود تھے ان کے تغیر و تبدل پر انسان نے زیادہ توجہ نہیں دی  بلکہ اب تک وبائی امراض کے طویل مدتی اثر ات کا ادراک ہی نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سو سال بعد وائرس کسی نہ کسی نئی شکل میں دنیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں اور پوری طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں ۔ کبھی  تو ان کے اثرات عارضی ہوتے ہیں اور وہ ملک یا خطہ جو اس سے متاثر ہو ،دو تین ماہ میں اس جھٹکے سے باہر نکل آتا ہے۔  مگر  بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ  اس کے باعث صرف انسانی زندگی نہیں بین الاقوامی انتظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے اور اس نظام کی تشکیل کسی ایک ملک کے ہاتھ میں نہیں رہتی بلکہ بنی نوعِ انسان کو بچانے اور زندگی کو واپس بحال کرنے کے لیے سب کو مشترکہ کوشش کرنی ہوتی ہے ،پہلے تو اس وائرس سے چھٹکارا پانے کے لیے اور پھر اس کے بعدمعیشت  و معاشرت کی بحالی کے لیے ۔ بیسویں صدی اس اعتبار سے بھی چیلنجز کی صدی ہے کیونکہ اس میں ترقیاتی عمل نے ماحولیاتی اور ارضی توازن اور  ماحولیاتی نظام میں موجود  جراثیموں کو بھی متاثر کیا  ۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران ، 30 سے زیادہ نئی متعدی امراض سامنے آئےان کے علاج کی لاگتعالمی جی ڈی پی کا دو فی صد ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان امراض   نے در حقیقت ان اقتصادی کامیابیوں کو ختم کردیا جن کو حاصل کرنے کے لئے سب ممالک کوشش کر رہےہیں ۔ دنیا کی آبادی میں ہوش ربا  اضافے اور تیز نقل مکانی ، بشمول سیاحت یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے  آبادی کی عالمی سطح پر منتقلی ، نے اصل توازن کو توڑا ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو بہت تیز کردیا ہے۔۱۹۱۸ کا سپینش فلوتو   آدھے سال میں پوری دنیا میں پھیلاجب کہ کووڈ-۱۹  غیر معمولی تیزی سے پھیلا ۔

اس تمام منظر نامے کو دیکھیں تو ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ اب عوامی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کے اقدامات کو تبدیل کرنے کے لیے قومی حکمرانی کا ایک انقلاب ہی نہیں بلکہ عالمی حکمرانی کی سوچ کو فروغ دینا چاہیے ۔وبائی مرض کے بعد کے دور میں ، بنی نوع انسان کے لئے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر کو فروغ دینا وبائی مرض کے مہلک اثرات کا علاج ہوسکتا ہے۔ اب ہمیں نا صرف مختلف ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے ، بلکہ “بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے ” پربھی کام کرنا چاہیے ، جو سرحدوں سے آگے کی سطح پر کھڑا ہے۔ہمیں بین الاقوامی امداد اور آراء کا کھلا اور شفاف طریقہ کار قائم کرنا چاہئے۔ انڈونیشیا میں سونامی جیسی آفات کے دوران، ہیٹی کے زلزلے اور افریقہ میں ایبولا وائرس میں ، چینی حکومت اور لوگوں نے متاثرہ ممالک کو بے لوث امداد فراہم کی ۔سارس ، سیچوان کے زلزلے اور کوویڈ- 19 کی وبا  کے دوران دنیا نے چین کی مدد کی۔ یہ مثالیں “بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے ” کے تصور کا عملی مظاہرہ ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم وبائی امراض کی روک تھام کے لیے ایک عالمی نیٹ ورک قائم کریں۔ معلومات اور وبائی خطرے کی درجہ بندی کے طریقہ کار اور اعداد و شمار کی  بنیاد پر ، ممالک کے مابین معلومات ، تجربے اور وبائی امراض کی روک تھام اور قابو پانے کے بڑے نتائج کو  بانٹیں۔ناصرف انسانی زندگی کا احترام کریں بلکہ کرہ ارض پر موجود  تمام زندگیوں  کا احترام کریں۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں، وبائی امراض کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی تعاون کو فعال طور پر فروغ دیں۔

چین نے انسانیت کی بقااور وبائی امراض کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں ، وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے نتائج  سب پر عیاں ہے ، ہمیں نیٹ ورکنگ سسٹمز کے ذریعے وبائی امراض سے متاثرہ بڑی طاقتوں اور ممالک کے ساتھ رابطے کو مستحکم کرنا چاہئے تاکہ تجربات کو بانٹ سکیں ، ردعمل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوسکے  اور مشکلات کا شکار ممالک کو مزید امداد فراہم کی جاسکے۔ وبائی امراض کی وجہ سے ہونے والے معاشی اور مالی نقصانات کا بھی تخمینہ لگانا چاہئے تاکہ ممالک کے مابین پالیسی ہم آہنگی کو تقویت مل سکے اور عالمی سطح پر سپلائی چین اور استحکام کی منڈیوں میں استحکام برقرار رہ سکے۔

جیسا کہ صدر شی جن پھنگ  نے بھی جی 20 ویڈیو سربراہی اجلاس میں اس بات پر زور دیا ، کہ وائرس کی کوئی سرحد نہیں، وبا ہماری مشترکہ دشمن ہے۔ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کے لیے رہنمائی کے بعد اب عالمی برادری کو بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ متحد ہو، باہمی  تعاون کو مضبوط بنائے اور وبائی امراض پر قابو پانے اور اس بڑی وبا کے خلاف فتح حاصل کرنے کے لیے مل کر کوشش کرے۔ مشترکہ مستقبل کے لیےاتحاد قائم کرنا وہ سبق ہے جو ماضی سے ہمیں ملتا ہے اور جو اس موجودہ وبا نے ایک مرتبہ پھر ہمیں سکھایا ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY