چینی مندوب کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کے اشتعال انگیز بیانات کی سختی سے تردید

0

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گیارہ تاریخ کو نوول کورونا وائرس کی وبا سے متعلق ایک قرار داد منظور کی،
جس میں عالمی برادری سے اتحاد کے ساتھ وبا کا مقابلہ کرنے کا کہا گیا۔ اس موقع پر ایک وضاحتی تقریر میں ،
چینی نمائندے نے چین کے خالف امریکی نمائندے کی طرف سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید
کی۔
چینی نمائندے نے کہا کہ ایک ایسے اہم موقع پر جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس وبا سے لڑنے کے لئے
اقوام عالم سے اتحاد کا مطالبہ کیا ہے، امریکی نمائندے نے ایک بار پھر انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا
ہے اور سفید کو سیاہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور سیاسی وائرس پھیالنے میں کوئی کسر نہیں
چھوڑی۔چین اس رویے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اسے مسترد کرتا ہے۔
چین کے نمائندے نے کہا کہ چین نے نہایت قلیل عرصے میں اس وبا کو کامیابی کے ساتھ قابو کیا ہے اور امریکہ
سمیت دنیا بھر کے ممالک کو وبائی مرض سے متعلق امداد اور ضروری اشیا فراہم کی ہیں ، یہ تمام امورچینی
کمیونسٹ پارٹی، چینی حکومت کی قیادت اورچینی عوام کی مشترکہ کوششوں کے تحت سر انجام دئیے گئے ہیں۔
چینی عوام کسی کو بھی ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیں گےکہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی کردار کشی کرے یا
چینی کمیونسٹ پارٹی کی مثبت کوششوں کو مسخ کرنے کی کوشش کرے۔
چین کے نمائندے نے کہا کہ اس وباء کے آغاز کے بعد سے ، چین ہمیشہ سے ہی عالمی برادری کے ساتھ کھلے عام
، شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں وبائی معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔ اس سال 3 جنوری کے شروع میں ، چین نے
باضابطہ طور پر اور باقاعدگی سے امریکہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ شروع کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،
امریکہ نے وبا کے آغاز کے وقت ہی وبا کے خطرے کو پہچان لیا تھا ، لیکن گھبراہٹ سے بچنے کے لئے جان
بوجھ کر امریکی عوام کے سامنے خطرے کی شدت کم کرکے پیش کیا۔ سب جانتے ہیں کون کیا چھپا رہا ہے؟
امریکہ ، جس کے پاس جدید ترین میڈیکل ٹیکنالوجی ہے اور جدید ترین میڈیکل سسٹم موجود ہے ، کو سب سے
زیادہ انفیکشن کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ نیو یارک اس وبا کا مرکز کیوں بنا اور اقوام متحدہ کو اس کی 75 ویں سالگرہ
کے موقع پر “اپنے دروازے بند کرنے” پر مجبور کیوں کیا گیا؟ مجھے یقین ہے کہ عالمی برادری نے یہ سب کچھ
بہت واضح طور پر دیکھا ہے۔ امریکہ کا جھوٹ اور دھوکہ دہی کا یہ بازار مزید نہیں چلے گا۔
چین کے نمائندہ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مشترکہ طور پر درخواست کرتا
ہے کہ امریکہ سے یہ مطالبہ کریں کہ امریکہ اس وبا سے متعلق معامالت پر حقائق کا احترام کرے ، سائنس کا
احترام کرے ، اور اپنے لوگوں کی زندگی اور صحت سے متعلق معامالت کی حقیقی طور پر دیکھ ب

SHARE

LEAVE A REPLY