چین کو سمجھنا کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس خصوصی اہمیت کی حامل ہے، سی آر آئی کا تبصرہ

0

رواں سال چین میں اصلاحات و کھلی پالیسی کے نفاذ کی چالیسویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔”چین ایک شراکت دار یا مخالف ہے” اور “چین ایک موقع یا چیلنج ہے” کی آواز بھی بڑھ گئی ہے. اس آواز کے پیش نظر سولہ تاریخ کو بیجنگ میں شروع ہونےو الی “چین کو سمجھناکے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔موجودہ کانفرنس میں تقریباً چھ سو افراد شریک ہیں، جن میں چالیس نامور سیاسی و کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے ٘مذکورہ کانفرنس کے لئے مبارک باد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو گہرائی تک لانے کے ساتھ ساتھ کھلے پن کو وسعت دے گا ، اس کے علاوہ ترقی کے نئے تصور پر قائم رہتے ہوئے چینی معیشت کو آگے بڑھائے گا اور دنیا کے لئے تعاون کے زیادہ مواقع فراہم کرے گا۔جناب شی جن پھنگ کی مذکورہ باتیں مغربی ممالک کی چین کے حوالے سے دلچسپی کا جواب ہیں۔شرکا “چینی ترقی کی نئی قوت، عالمی تعاون کے نئے مواقع ” کے موضوع پر بات چیت کررہے ہیں۔
عالمی برادری خاص طور پر مغربی ممالک کی چین کے حوالے سے دلچسپی کو یوں تین سوالات سے منسوب کیا جا سکتا ہے یعینی چین کس قسم کا ملک ہے؟ چین کہا ں سے آیا اور کہاں جارہا ہے؟

چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن و مرکزی کمیٹی برائے سفارتی امور کے دفتر کے ڈائریکٹر یانگ جیے چھی نے افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری چین کے پرامن ترقی پر قائم رہنے، تعاون اور مشترکہ کامیابی کو فروغ دینے سمیت مختلف پہلو ں سے چین کو سمجھ سکتی ہے۔

دوسرے سوال کے حوالے سے چینی نیشنل انوویشن اور ڈویلپمنٹ اسٹریٹجک تحقیقی ایسوسی ایشن کے صدر جنگ بی جیان نے کہا کہ چین گزشتہ چالیس برسوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کی بنیاد پر آگے بڑھے گا ۔
چین کہاں جارہا ہے؟ شرکاء کے خیال میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس میں پیش کردہ قومی معاشی و سماجی ترقی کے اہداف سے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے۔
آئندہ تین دنوں میں شرکاء خطے میں ترقی کی حکمت عملی، سائنسی اور تکنیکی جدت، صنعتی اپ گریڈیشن، اور جدید مالیاتی نظام کی تعمیر سمیت دیگرشعبوں میں چینی ترقی کی نئی قوت کی تلاش کریں گے ، خطے کی سکیورٹی اور نئے عالمی تعلقات، دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر سمیت مختلف شعبوں میں عالمی تعاون کے نئے مواقع دریافت کریں گے۔اس کانفرنس سے نہ صرف مغربی ممالک چین کو بہتر طریقے سےسمجھیں گے بلکہ دنیا بھی فائدہ اٹھائے گی۔

دار یا مخالف ہے” اور “چین ایک موقع یا چیلنج ہے” کی آواز بھی بڑھ گئی ہے. اس آواز کے پیش نظر سولہ تاریخ کو بیجنگ میں شروع ہونےو الی “چین کو سمجھناکے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔موجودہ کانفرنس میں تقریباً چھ سو افراد شریک ہیں، جن میں چالیس نامور سیاسی و کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے ٘مذکورہ کانفرنس کے لئے مبارک باد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو گہرائی تک لانے کے ساتھ ساتھ کھلے پن کو وسعت دے گا ، اس کے علاوہ ترقی کے نئے تصور پر قائم رہتے ہوئے چینی معیشت کو آگے بڑھائے گا اور دنیا کے لئے تعاون کے زیادہ مواقع فراہم کرے گا۔جناب شی جن پھنگ کی مذکورہ باتیں مغربی ممالک کی چین کے حوالے سے دلچسپی کا جواب ہیں۔شرکا “چینی ترقی کی نئی قوت، عالمی تعاون کے نئے مواقع ” کے موضوع پر بات چیت کررہے ہیں۔
عالمی برادری خاص طور پر مغربی ممالک کی چین کے حوالے سے دلچسپی کو یوں تین سوالات سے منسوب کیا جا سکتا ہے یعینی چین کس قسم کا ملک ہے؟ چین کہا ں سے آیا اور کہاں جارہا ہے؟

چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن و مرکزی کمیٹی برائے سفارتی امور کے دفتر کے ڈائریکٹر یانگ جیے چھی نے افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری چین کے پرامن ترقی پر قائم رہنے، تعاون اور مشترکہ کامیابی کو فروغ دینے سمیت مختلف پہلو ں سے چین کو سمجھ سکتی ہے۔

دوسرے سوال کے حوالے سے چینی نیشنل انوویشن اور ڈویلپمنٹ اسٹریٹجک تحقیقی ایسوسی ایشن کے صدر جنگ بی جیان نے کہا کہ چین گزشتہ چالیس برسوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کی بنیاد پر آگے بڑھے گا ۔
چین کہاں جارہا ہے؟ شرکاء کے خیال میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس میں پیش کردہ قومی معاشی و سماجی ترقی کے اہداف سے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے۔
آئندہ تین دنوں میں شرکاء خطے میں ترقی کی حکمت عملی، سائنسی اور تکنیکی جدت، صنعتی اپ گریڈیشن، اور جدید مالیاتی نظام کی تعمیر سمیت دیگرشعبوں میں چینی ترقی کی نئی قوت کی تلاش کریں گے ، خطے کی سکیورٹی اور نئے عالمی تعلقات، دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر سمیت مختلف شعبوں میں عالمی تعاون کے نئے مواقع دریافت کریں گے۔اس کانفرنس سے نہ صرف مغربی ممالک چین کو بہتر طریقے سےسمجھیں گے بلکہ دنیا بھی فائدہ اٹھائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY