امریکی نائب صدر کے بیان کا جواب، چین کے علاقے تائوان کی خاتون اینکر کے قلم سے 

0

تائوان کے اخبار چائنا ٹائمز نے سات تاریخ کو تائوان کی خاتون اینکر  ہوانگ جی شیئن کا تحریر کردہ مضمون شائع کیا جس کا عنوان ہے امریکی نائب صدر  کے بیان کا  جواب ۔
مضمون میں لکھا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل حقائق کو  نظر انداز کرتے ہوئے چین پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں  جو بہت افسوس کی بات ہے ۔ 
مضمون میں لکھا گیا  ہےکہ چین  ہمیشہ سے امریکہ کو برا نہیں سمجھتا  اور اس کے  لیے نیک خواہشات رکھتا ہے ۔ تاریخ کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی چین اور امریکہ کے درمیان تعان بڑھتا ہےتو عالمی امن کو فائدہ ہوتاہے بالخصوص امریکہ کو بھی ۔ مضمون میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ دوسری جنگ عظیم میں چین تن تنہا جاپان کے خلاف  مذاحمت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ چین کو  اس وقت تک امریکہ کی امداد نہیں ملی جب تک امریکہ کی پرل ہاربر بندرگاہ کو  جاپان نے اچانک  حملے کا نشانہ نہیں بنایا  ۔ 
چین  ماضی میں بیرونی مزاحمت ، اندرونی جنگ اور مختلف غلطیوں سے گزر  نے کے بعد اب کچھ  استحکام پا رہا ہے لیکن ملک ابھی تک پوری طرح متحد نہیں ہوا ۔ مختلف شعبوں میں کمی ہے لیکن اصلاحات اور اوپن پالیسی کے نفاذ کے بعد ایک ارب چالیس کروڑ چینی عوام خوشحال زندگی بسر  کر رہے ہیں اور ہم اسے قدر کی  نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ 
 آج  چین میں امن و امان ہے اور عوام خوشحال ہیں ۔ لیکن اس کی بنیاد مزاحمت اور نو آبادیاتی کی بجائے عوام کی ہنر مندی ، قربانی اور  محنت پرہے ۔  امریکہ نے بھی چین کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہت فوائد حاصل کئے ہیں ۔ 
اس وقت  متعدد شعبوں میں چین امریکہ سے پیچھے ہےلیکن ہم ملک کی خوشحالی کے لئے دل و جان سے  کوشش کریں گے ۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ پوری دنیا پر بالادستی  چاہتا ہے ۔ اس لئے وہ چین کی ترقی و  مضبوطی کے بارے میں منفی  سوچتا ہے ۔ اس وقت امریکہ چین پر دباو ڈالنے اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے چین کے خلاف مختلف  اقدامات اختیار کر رہا ہے ۔ جو غیر عقلمندی ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY