دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں چینی صنعتی و کاروباری اداروں کی شمولیت

0

دو ہزار تیرہ میں چینی حکومت نے دی بیلٹ اینڈروڈ انیشیٹیو کا تصور پیش کیا۔ اس کے بعدسے اب تک یہ تصوروسیع پیمانے پر قبول کیا جا رہا ہے۔ چین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے حوالے سے اسی ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے معاہدے طے کئے ہیں اور دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں چین کے صنعتی و کاروباری ادارے بھر پور طریقے سے شرکت کر رہےہیں۔ حال ہی میں چینی صعنتی و کاروباری اداروں کی اصلاحات اور ترقی کا فورم بیجنگ میں منعقد ہوا۔ شرکا نے دی بیلٹ اینڈروڈ کی تعمیر میں چینی صنعتی و کاروباری اداروں کے کردار کے بارے میں بھرپور تبادلہ خیال کیا۔چین کے نقل و حمل کے تعمیراتی گروپ کے جنرل مینجر چھن فن جن نے بتایا کہ ان کی کمپنی دی بیلٹ اینڈروڈ کی تعمیر سے متعلق کل ایک ہزارچھ سو منصوبوں میں شرکت کر رہی ہے اور تعاون کے اس معاہدے کی کل مالیت اٹھاون ارب پچاس کروڑ امریکی ڈالر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں سے منسلک ممالک کی عوام کو خاطر خواہ مفادات حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزکورہ منصوبوں میں پاکستان کی گوادر بندر گاہ، شاہراہ قراقرم اورسری لنکا کی کاکلمبو بندرگاہ شہر بھی شامل ہیں۔
بنیادی تنصیبات کے علاوہ چین کے مالیاتی اور سائنسی ادارے بھی دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابسطہ ملکوں کی منڈیوں پر بہت توجہ دے رہےہیں۔ علی بابا گروپ مالیاتی کمپنی کے نائب مینجر یو شن فا نے کہا کہ ہم متعلقہ ملکوں میں تعاون کے شراکت داروں کو تلاش کر رہے ہیں جن کے تصورات، منصوبے اور طریقہ کار ہمارے نظریات سے یکساں ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک ہم نے دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابسطہ نو ملکوں اور علاقوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ سب سے پہلے ہم نے ان ملکوں اور علاقوں میں موبائل ادائیگی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ بعد ازاں انکی کمپنی زیادہ عمدہ سائنس و ٹیکنالوجی سے ذریعے مقامی عوام کے لئے بہتر سروس فراہم کرےگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY