تبت کے حوالے سے سیمینار کا کٹھمنڈو میں انعقاد

0

نئے عہد میں نئے تبت اورچین نیپال ثقافتی تبادلے کے حوالے سے سیمینار اکتیس دسمبر کو نیپال کے دارالحکومت  کھٹمنڈو میں منعقد ہوا۔ نیپال میں تعینات چینی سفیر، تبتی باشندوں اور متعلقہ حلقوں کی شخصیات نے اس  سیمینار میں شرکت کی ۔ سیمینار میں  تبت کی نئی ترقی،  چین-نیپال باہمی  تبادلے اور  رابطے کے بارےمیں بات چیت کی گئی ۔
نیپال کے دانشوروں نے سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ چین  کی جانب سے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا  تصور پیش کیا جانا   چین کے  ذمہ دارانہ بڑا ملک ہونے کا ثبوت ہے اور چین بین الاقوامی امور میں زیادہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔نیپال ایک  چھوٹا ملک ہے ۔ اس  کی معیشت ، آبادی اور  ترقی کا معیار چین کےمقابلے میں کافی پسماندہ ہے ۔ تاہم دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر  سے نیپال کو ترقی کے نئے مواقع میسر ہونگے ۔ اس لئے نیپال کو   اقتصادی و تجارتی ماحول کو بہتر بنانا  اور  چین اور متعلقہ ملکوں کے ساتھ  تعاون کے لئے تیاری  کرنی چاہیے۔
سیمینار میں تبت کی تاریخ ،معاشرے ، قدرتی مناظر اور  رسم و رواج  ،نیز معیشت ، عقائد  اور ماحول سمیت پہلووں سے متعلق دستاویزی  فلم دکھائی گئی۔ شرکا ء نے  تبت کی ترقی کو خوب سراہا اور  اس یقین کا اظہار کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں  قومی کانگریس میں طے پانے والی  نئی ترقیاتی حکمت عملی کی روشنی میں تبت کی ترقی کا نیا باب شروع ہو گا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY