چین نے کوانٹم مواصلات میں بہت جلد اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے

0

چین کے صوبہ آن ہوئی کے دارالحکومت ہیفی میں واقع  یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کمیونسٹ پارٹی  چیف شو وو نے بتایا ہے کہ بیجنگ اور شنگھائی کے درمیان دنیا کی پہلی دو ہزار کلو میٹر کوانٹم مواصلاتی لائن فعال ہونے کے بعد  بہت جلد چینی ماہرین اس شعبے میں نئی پیش رفت سے متعلق آ گاہ کریں گے۔ شو وو  چین کی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس کے مندوبین میں شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی ایک ٹیم اس حوالے سے تحقیق میں مصروف ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوانٹم مواصلات کے صارفین کی تعداد بڑھنے کے بعد ترسیلی عمل  میں کوئی خلل نہ آ ئے۔شو وو کے مطابق اس وقت بیجنگ اور شنگھائی کے درمیان کوانٹم مواصلاتی لائن کے تیس سے زائد ریلے اسٹیشنز ہیں جن کے درمیان اوسطاً فاصلہ اسی کلو میٹر ہے ، چینی ماہرین یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اوسطاً فاصلے کو تین سو سے پانچ سو کلو میٹر تک بڑھاتے ہوئے ریلے اسٹیشنز کی تعداد میں کمی کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ  یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوانٹم شعبے میں تحقیق کے لیے ایک قومی تجربہ گاہ کے قیام کی درخواست کر رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY