جزیرہ نما کوریا کے مسئلے پر چین اور روس کے مشترکہ بیان کا اجراء

0

چین  اور روس کے وزرائے خارجہ  نے چار تاریخ کو ماسکو میں جزیرہ نما کوریا کے مسئلے  پر مشترکہ بیان جاری کیا

بیان میں کہا گیا کہ شمالی کوریا نے چار تاریخ کو اعلان کیا کہ اس نے بیلسٹک  میزائل داغنے  کا تجربہ کیا ہے۔چین اور روس کے خیال میں یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی  متعلقہ قرارداد کی سخت مخالفت  کرتا ہے۔فریقین نے اس حرکت کو قبول نہیں کر سکا  اور اس بات پر زور دیا کہ شمالی کوریا سلامتی کونسل کے متعلقہ مطالبے کی سنجیدگی  سے تعمیل کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین اور روس جزیرہ نما کوریا اور اس سے وابستہ علاقے کی صورتحال کی ترقی پر  بڑی توجہ دیتے ہیں۔

فریقین کسی بھی بات اور حرکت جس سے کشیدگی اور اختلافات میں اضافہ ہو ،کی مخالفت کرتے ہیں۔چین اور روس نے اپیل کی کہ متعلقہ ممالک ضبط و تحمل سے کام لیں ۔اشتعال انگیریوں اور  جارحانہ  بیانات سے بچا جائے۔غیر مشروط بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا جائے اور کشیدہ صورتحال کو نرم  بنانے کے لئے مشترکہ مثبت کوشش کی جائے۔

چین اور روس نے تجویز پیش کی کہ شمالی کوریا رضاکارانہ سیاسی فیصلہ کرے کہ ایٹمی دھماکے اور میزائل  تجربات نہیں کئے جائیں گے ۔ساتھ ہی امریکہ اور جنوبی کوریا بڑے پیمانے کی فوجی مشق کو بھی ختم کریں۔۔

چین اور روس نے اس بات کا  اعادہ کیا کہ شمال مشرقی علاقے میں تھاڈ سسٹم کی تنصیب چین اور روس سمیت متعلقہ ممالک کی اسٹرٹیجک  سیکورٹی کے مفادات کے لیَے نقصان دہ  ہے۔جزیرہ نما کوریا کو  ایٹمی ہتھیاروں سے  پاک علاقہ بنانے کے ہدف اور علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔چین اور روس مذکورہ سسٹم کی تنصیب کی مخالفت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متعلقہ ممالک فوری طور پر  ا س کو ختم کریں گے اور ضروری اقدامات  کریں گے تاکہ چین اور روس کے سیکورٹی مفادات اور علاقائی اسٹرٹیجک  توازن کا تحفظ کیا جاسکے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY