برکس ممالک نے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشترکہ خطاب کیا

0

دو ہزار سترہ میں چین برکس ممالک کی سربراہی ملاقات کا میزبان ملک ہے۔برکس ممالک کے اتفاق رائے کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مندوب  لیو جیے ای نے اٹھارہ تاریخ کو برکس ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار ترقی کے حوالے سے اہم تقریر کی۔
لیو جیے ای نے کہا کہ اس وقت عالمی معیشت کی بحالی سست   رہی ہے۔قوت متحرکہ کی کمی،انتظام میں تاخیر اور ترقی کے عدم توازن سمیت تضادات نمایاں ہو رہے ہیں۔ لیو جیے ای نے کہا کہ ترقی کے لیے مالی معاونت  دو ہزار تیس کے پائیدارترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل کا کلیدی عنصر ہے۔برکس ممالک کو امید ہے کہ اس اجلاس سے مختلف فریقین مالی معاونت  کے لیے اتفاق رائے حاصل کریں گے  اور سیاسی غرض و غایت کو بلند کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی وسائل کا استعمال کرکے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے  گا۔
برکس ممالک کے تعاون کا نظام دو ہزار چھ سے شروع ہوا۔دس سال سے تعاون کے شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔سربراہی ملاقات ،سلامتی امور کے اعلیٰ نمائندوں کے اجلاس،وزراء خارجہ کی ملاقات سمیت اجلاسوں کے تحت معیشت و تجارت،مالیت،صنعت و کاروبار،زراعت،تعلیم ، صحت ،سائنس و ٹیکنالوجی،ثقافت،تھنک ٹینکس ،دوستانہ شہروں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ، برکس ممالک نے نئے ترقیاتی بنک،ہنگامی ذخائر ،صنعت و تجارت کی کونسل،تھنک ٹینک کی کونسل سمیت تعاون کے دیگر نظام بھی قائم کیے ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY